اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلیٰ خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ
اَمَّا بَعْدُ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
تمہید:
معزز خواتین و حضرات! آج منگل کا دن ہے اور منگل کے دن ہمارے ہاں حضرت مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ کی مثنوی شریف کا درس ہوا کرتا ہے۔ ما شاء اللہ یہ مفاہیم کا ایک خزانہ ہے، اس کو اس نیت سے پڑھنا چاہئے کہ بزرگوں کی جو تحقیقات ہمارے لئے مفید ہوں وہ ہم کو مل جائیں، کام آسان ہوجاتا ہے۔ بہت ساری غلط فہمیاں ہوتی ہیں ان غلط فہمیوں کو دور کرلیا جاتا ہے۔ اور جب غلط فہمی دور ہو تو کام پھر آسان ہوجاتا ہے، پھر انسان سیدھا اپنے راستے پہ جاتا ہے کوئی مشکل نہیں ہوتی۔ اگر کوئی غلط فہمی ہو تو ساری کی ساری محنت ضائع ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر آپ جارہے ہوں لاہور اور آپ نے راستہ کراچی کا لیا ہو تو پہنچیں گے؟ ظاہر ہے نہیں پہنچ سکیں گے۔ تو کوئی آپ کو بتا دے کہ بھائی لاہور کا تو یہ راستہ ہے، تو وہ آپ کے اوپر کتنا احسان کرے گا۔ اس طریقہ سے طریق میں تو اور بھی زیادہ اس طرح کے مسائل ہیں سمجھنے میں، اس وجہ سے اگر ہماری نیتیں درست ہوجائیں اور ہماری جو سمجھ ہے وہ صحیح راسخ ہوجائے تو کام بہت آسان ہوجاتا ہے۔ تھوڑی محنت سے بہت فائدہ پھر ہونے لگتا ہے۔ اسی نیت سے ہم اس کو پڑھتے ہیں، سنتے ہیں اور پڑھاتے ہیں۔
آج ان شاء اللہ دفتر اول حکایت نمبر 02 شروع ہورہی ہے، چونکہ اس کا ترجمہ ہوچکا ہے منظوم، تو منظوم ترجمہ ہم سناتے ہیں اور پھر اس کے بعد اس کی تشریح کرتے ہیں۔
متن:
دفتر اول حکایت نمبر 2
حکایت: عاشق شدنِ بادشاہ بر کنیزک و خریدنِ او آں کنیزک را و بیمار شدنِ کنیزک و درمانِ بیماریِ او
حکایت: (ایک) بادشاہ کا (ایک) لونڈی پر عاشق ہو جانا اور اس کا اس لونڈی کو خرید لینا اور لونڈی کا بیمار ہو جانا اور اس کا علاج کیا جانا۔
تشریح:
حضرت کبھی کبھی بالکل فرضی کہانیاں بھی مثلا طوطے کی کہانی، کتے کی کہانی، اس طرح اس سے بڑے مفاہیم نکال لیتے ہیں، تو یہ تو ایک واقعہ ہو سکتا ہے۔ تو اس طریق سے حضرت مفید مضامین ہمیں سمجھاتے ہیں۔
متن:
1
سن لیں میرے دوستو یہ داستاںجس سے ہوتا حال ہے اپنا بیاں
تشریح:
اس قصہ کا ربط اس سے پچھلی حکایت کے ایک شعر کے ساتھ ہے؎
آئینہ دل کو زنگ سے پاک کر
بعد ازاں اس نور کا ادراک کر
اس کے ساتھ ہے۔ یعنی جو ہمارا آئینہ دل ہے اس پہ اگر نفس کی آلائشوں کا زنگ لگا ہوا ہے تو حقائق نظر نہیں آئیں گے، صحیح چیز کا پتا نہیں چلے گا۔ ہم غلط کو صحیح سمجھ سکتے ہیں صحیح کو غلط سمجھ سکتے ہیں۔ جس کا مظاہرہ آج کل ہمارے حالات میں ہورہا ہے کہ عالم کو جاہل سمجھا جاتا ہے اور جاہل کو عالم سمجھا جاتا ہے۔ یہ آج کل ہورہا ہے یا نہیں ہورہا؟ تو حقیقت کو پھر نہیں سمجھ پاتے۔ جب تک نفس کی آلائشیں دل کے آئینہ سے دور نہ ہوں اس وقت تک حقیقت نظر نہیں آ سکتی۔
متن:
یعنی اسرارِ عشق کے سمجھنے کے لیے دل زنگارِ علائق سے اس طرح پاک کرو جس طرح طبیب الٰہی نے اس کنیزک کے دل کو درد و رنج سے نجات دی، جو ایک زرگر کے عشق میں مبتلا تھی۔ خلاصہ اس قصہ کا یہ ہے کہ ایک بادشاہ اپنی لونڈی پر عاشق ہوگیا مگر لونڈی ایک اور شخص پر عاشق تھی۔ بادشاہ نے اطبائے ملک سے اس کا علاج کرانا چاہا مگر شفا نہ ہوئی۔ مایوس ہوکر خدا کی طرف رجوع کیا تو ایک غیبی طبیب نے آکر یہ تدبیر کی کہ لونڈی کے معشوق کو دواؤں کی تاثیر سے بد صورت بنا کر ہلاک کر دیا۔ جس سے لونڈی کو اس کی یاد سے نفرت ہوگئی اور بادشاہ کی مراد بر آئی۔
مولانا رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ قصہ ہمارے حسبِ حال ہے۔ چنانچہ بادشاہِ روح اپنی کنیز نفس پر عاشق ہے۔
تشریح:
یعنی بادشاہ جو روح ہے وہ اپنی کنیز یعنی نفس پر عاشق ہے۔
متن:
اور نفس لذّاتِ دنیا پر فریفتہ ہے۔ عام اطبّاء یعنی مشائخِ ناقصین اس کے معالجہ کی قابلیت نہیں رکھتے۔ شیخِ کامل کی طرف رجوع کرنا چاہیے جو اپنی تربیت کے اثر سے نفس کی نظر میں دنیا کو بد صورت بنا دے گا اور لذّاتِ دنیا کے احساس کو اس کے وجود سے نابود کر دے گا۔ پھر نفس خاص روح کے تابع ہو جائے گا۔ (کذا قال بحر العلوم رحمۃ اللہ علیہ)
تشریح:
اب بتاؤ سمجھ میں آگئی ناں بات؟ اب دیکھو بظاہر کتنا فضول قسم کا عنوان ہے، لیکن اس سے مطلب کیا تھا؟ اس سے مطلب یہی ہے حضرت مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ کا کہ ان اشعار کا فائدہ ہے۔ حضرت نے بعض اشعار میں یہ شکایت کی بھی ہے، کہتے ہیں اگر میرے اشعار میں جو حکایات ہیں ان کو اگر واقعی حکایات ہی مقصود سمجھ کر پڑھا گیا تو اس نے پھر میری مثنوی کی قدر نہیں کی۔ اصل میں اس کے پیچھے جو مفاہیم ہیں وہ اس کی بنیاد ہیں، وہ اصل چیز ہے، اس تک پہنچنے کی ضرورت ہے۔
متن:
2
حال سے گر ہم اپنے آگاہ رہیںدنیا و آخر میں آسودہ رہیں
تشریح:
یعنی ہم اگر اپنے حال سے اپنے آپ کو آگاہ رکھیں تو دنیا میں بھی ہمیں فائدہ ہوگا اور آخرت میں بھی فائدہ ہوگا۔ یہ واقعتاً انسان اپنے آپ سے آگاہ نہیں ہوتا۔ ”وَمَنْ عَرَفَ نَفْسَہٗ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہٗ“ جس نے اپنے نفس کو پہچانا اس نے اپنے رب کو پہچانا۔ تو اپنے حال سے آگاہ ہونا بہت ضروری ہے۔
متن:
اپنے حالات پر غور کرتے رہیں کہ ماضی سے عبرت اور مستقبل کے لیے بصیرت حاصل ہوتی ہے، جس کا ثمرہ یقینًا یہ حاصل ہوتا ہے کہ آدمی دنیا میں نیک نامی اور آخرت میں نجات حاصل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَفِى الْاَرْضِ اٰيَاتٌ لِّلْمُوْقِنِيْنَ وَفِىٓ اَنْفُسِكُمْ ۚ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ﴾ (الذاریات: 20-21) "اور زمین میں یقین کرنے والوں کے لیے (کافی) نشانیاں ہیں اور خود تمہارے اندر بھی، پس کیا تم غور نہیں کرتے"۔
3
بادشاہ عہد مبارک سے قبلایک تھا دنیا میں خوب و نیک عمل4
اتفاقاً واسطے کرنے شکارباخواص ایک روز ہوگئے سوار
5
کررہا تھا کوہ و صحرا میں شکارہوگیا خود دامِ عشق میں گرفتار
6
ایک لونڈی پر پڑی شاہ کی نظرشاہراہ پہ پھینکا شاہ نے دل ادھر
7
جسم میں جاں اس کی عشق سے تڑپی جبمال سے لونڈی خریدی جلدی تب
تشریح:
ظاہر ہے پیسہ تو تھا کیونکہ بادشاہ تھے، تو اس کو خرید لیا۔
متن:
8
لونڈی اپنانے میں کامیابی ہوئیاز قضا بیمار وہ لونڈی ہوئی
تشریح:
مطلب اس کو خریدا تو بیمار ہوگئی۔
متن:
9
گدھا تھا پالان نہیں موجود تھاجب ملا تو گدھا بھیڑیا لے گیا
تشریح:
یہ حضرت کبھی کبھی ٹوٹکے بھی اس طرح لگاتے ہیں۔
متن:
9
گدھا تھا پالان نہیں موجود تھاجب ملا تو گدھا بھیڑیا لے گیا
تشریح:
پالان نہیں تھا تو بیٹھ نہیں سکتے تھے، یعنی جب وہ مل گیا تو گدھے ہی لے گیا بھیڑیا۔
متن:
10
اس طرح کوزہ تھا پاس پانی نہ تھامل گیا پانی تو کوزہ ٹوٹ گیا
تشریح:
مطلب یہ ہے کہ لونڈی اول اپنی نہیں تھی جب اپنی ہوگئی تو بیمار ہوگئی اور ہاتھ سے ہی نکل گئی۔
متن:
اوپر کے دونوں شعر اس امر کی تمثیل ہیں کہ دنیا میں اکثر لوگوں کو کامیابی کا پورا سامان میسر نہیں۔ ایک چیز میسر ہے تو دوسری کی کمی ہوتی ہے اور جب دوسری ملتی ہے تو پہلی نہیں رہتی۔
تشریح:
بھائی! دیکھو، بات سنو! نوجوان ہوتا ہے آدمی طاقت ہوتی ہے سارا کچھ ہوتا ہے لیکن تجربہ نہیں ہوتا، تجربے کے لئے بوڑھوں کے پاس جاتے ہیں۔ جب انسان بوڑھا ہوجاتا ہے تو تجربہ اچھا خاصا ہوجاتا ہے، پھر طاقت نہیں رہتی۔ تو اس طریقہ سے کمی تو رہتی ہی ہے کیونکہ ہماری پشتو میں اس کو کہتے ہیں: ”نیمګړې دنیا“۔ نیمګړې دنیا کا کیا ترجمہ کریں گے؟ ناقص دنیا۔ تو یہ نیمګړې دنیا ہے اس میں کوئی بھی پورا نہیں ہے۔ اگر کوئی آخرت کا توشہ اس کو بنا لیتا تو ما شاء اللہ پھر بہت بڑی چیز بن جاتی ہے۔
متن:
اوپر کے دونوں شعر اس امر کی تمثیل ہیں کہ دنیا میں اکثر لوگوں کو کامیابی کا پورا سامان میسر نہیں۔ ایک چیز میسر ہے تو دوسری کی کمی ہوتی ہے اور جب دوسری ملتی ہے تو پہلی نہیں رہتی۔ یہی حال بادشاہ کا تھا کہ یا تو اس کی معشوقہ یعنی کنیزک اس کے پاس نہ تھی، جب اسے خرید لیا تو اس کے مرض کے سبب وصل کا موقع ہاتھ سے جاتا رہا۔
11
جمع ہرگاہ سے طبیب شاہ نے کئےبولے جان دونوں کی آپ کی ہاتھ میں ہے
بادشاہ نے طبیبوں سے کہا لونڈی کی جان تمہارے ہاتھ میں ہے۔ اس لیے کہ نہ علاج کرو گے تو مر جائے گی۔ اور میری جان بھی تمہارے ہاتھ میں ہے کیونکہ میں اس کا شیدا ہوں۔ اس کا مرنا میرا مرنا ہے اور معشوق کی سلامتی عاشق کی سلامتی ہے۔
12
جان میری جان کی ہے جانِ منہوں مریض عشق او درمانِ من
پہلے مصرعہ میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ عاشق اپنے معشوق کے سامنے اپنی ہستی کو شمار نہیں کرتا۔ (یہ تو ہے)۔
13
جس نے میری جان کا درماں کردیامیرے مال سے اپنا منہ وہ بھر گیا
تشریح: مطلب میں اس کو بہت کچھ دوں گا اگر وہ یہ کرے گا۔
متن:
14
بولے جانبازی کریں گے اس میں ہممل کے سوچیں گے رکھیں گے جو قدم
تشریح: مطلب یہ ہے کہ ہم اس میں پوری کوشش کریں گے کہ اس کو صحت ہوجائے۔ اور ہم آپس میں مل کے سوچیں گے، غور و خوض کرکے ہم اس کا علاج کریں گے۔
متن:
15
ہم میں ہر ایک ہے مسیحِ ثانی جبمرہم ہر درد کا ہے ہاتھ میں اپنے تب
16
ان شاء اللہ کہہ سکے نہ از بطرتو دکھایا رب نے وہ عجزِ بشر
حکیموں کو اپنے طبی تجربہ کا زعم تھا۔ مریض کے علاج کی حامی بھرتے وقت ان شاء اللہ کہنے کی بھی پروا نہ کی۔ ؎
ان شاء اللہ کہہ سکے نہ از بطر
تشریح:
بطر یعنی خواہ مخواہ زعم جو ان کو ہوتا ہے کہ ہم ایسے اور ہم ایسے ہیں، اس کو بطر کہتے ہیں۔ تو وہ ان شاء اللہ بھی نہیں کہہ سکے تو پھر اللہ پاک نے ان کا عجز سب کو دکھا دیا کہ تم کیا کر سکتے ہو، کرکے دکھاؤ۔
متن:
حالانکہ شریعتِ الٰہی کی تعلیم ہے کہ ﴿وَلَا تَقُوْلَنَّ لِشَایْءٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًا اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللهُ﴾ (الکھف: 23) ”تم کسی کام پر یوں نہ کہا کرو کہ اس کو کل کر دوں گا۔ ہاں (یوں کہا کرو کہ) اگر اللہ چاہے گا (تو کروں گا)“ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے زعمِ فاسد کو یوں باطل فرمایا کہ ان کے علاج سے خاک بھی فائدہ نہ ہوا۔
تشریح:
اس کے لئے ایک لطیفہ بھی ہے کہ ایک شخص بازار جارہا تھا تو ایک دوست نے کہا کہ بھائی کیا کرنے جارہے ہو؟ کہتا ہے گدھا خرید رہا ہوں۔ اس نے کہا کہ ان شاء اللہ تو کہہ دو ناں ساتھ۔ کہتا ہے ان شاء اللہ کی کیا ضرورت ہے؟ گدھا منڈی میں ہے، پیسے میرے جیب میں ہیں، بس پیسے دے کر گدھا لے لوں گا۔ اس نے کہا جا جا۔ اچھا وہ چلا گیا، کسی نے جیب کاٹ لی اس کی۔ اب گدھے کا سودا ہوگیا تو پتا چلا کہ پیسے ہی نہیں ہیں، کام خراب ہوگیا۔ اب واپس آرہا ہے، راستے میں وہی دوست پھر ملا، بھائی! کیا حال ہے، گدھا خرید کے لے آئے؟ کہتا ہے ان شاء اللہ میری جیب کٹ گئی۔ پھر ہر لفظ کے ساتھ ان شاء اللہ کہتا تھا۔ تو یہ بات ہے کہ اللہ پاک نے پہلے سے فرمایا کہ جب کوئی بات کرنی ہو تو اس کے ساتھ ان شاء اللہ کہو، بغیر اس کے نہ کہو، کیونکہ اصل کیا ہے، اصل اس میں ہمارا عقیدہ ہے۔ اگر ہمارا ارادہ اللہ کے ارادے کے ساتھ match کررہا ہے تو کام ہوجائے گا اور اگر ہمارا ارادہ اللہ کے ارادے کے ساتھ match نہیں کررہا تو پھر نہیں ہوگا بے شک ہم لاکھ کوششیں کریں۔ تو اس وجہ سے ہمیں ان شاء اللہ کہنا چاہئے۔ تو ایک تو عقیدے کی حفاظت ہوگی اور دوسری بات یہ ہے کہ اللہ پاک کا رحم بھی ہوگا کیوں اللہ کے حکم پر عمل ہوا ہے۔
متن:
قرآن مجید کی سورۂ بقرہ میں بنی اسرائیل کا ایک قصہ مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی معرفت حکم دیا کہ ایک گائے ذبح کریں۔ وہ بار بار پوچھتے تھے کہ وہ کیسی گائے ہے؟ اس کا رنگ کیا ہے؟ اس کی کیا صفات ہیں؟ اور جناب باری سے ہر مرتبہ ان کے سوال کا جواب مل جاتا تھا۔ آخر میں ان لوگوں نے یہ کہا: ﴿اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَهَ عَلَیْنَاؕ وَاِنَّاۤ اِنْ شَآءَ اللهُ لَمُهْتَدُوْنَ﴾ (البقرۃ: 70) یعنی "ہم کو تو بہت سی گائیں ایک سی دکھائی دیتی ہیں اللہ نے چاہا تو ہم ٹھیک پتا لگا لیں گے"۔ غرض پھر انہوں نے فرمانِ الٰہی کے مطابق وہ گائے ذبح کر دی۔ جناب رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا ہے "اگر وہ لوگ ان شاء اللہ کا کلمہ نہ کہتے تو ان کو ابد الآباد تک اس گائے کا پتا نہ ملتا جس کے ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا۔ (تفسیرِ مظہری)
17
ترکِ استثناء سیاہ دلی تو ہےاور ساتھ استثناء ظاہری جو ہے
استثناء سے مدّعا اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ ہم کو اللہ تعالیٰ پر توکّل ہے اور ظاہری اسباب پر بھروسہ نہیں۔ مگر شرط یہ ہے کہ اظہار دل سے ہو۔ مولانا رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ترکِ استثناء سے مراد سیاہ دلی ہے، جو انسان کو خدا سے غافل کر دیتی ہے اور خدا پر متوکل نہیں ہونے دیتی۔ پھر ساتھ ہی فرماتے ہیں کہ صرف ترکِ استثناء ہی سیاہ دلی نہیں بلکہ جو شخص زبان ہی زبان سے استثناء کا کلمہ ورد کررہا ہے مگر دل میں اس کا اثر نہیں وہ بھی سیاہ دل ہے کیونکہ اس کی یہ استثناء گوئی ایک عارضی حالت ہے۔
تشریح:
یعنی انسان واقعی دل میں ڈرے کہ یہ کام میں کررہا ہوں تو اگر اللہ کا ارادہ نہیں ہوگا تو نہیں ہو سکے گا، تو وہ ان شاء اللہ دل سے کہے گا تو پھر ایسے ہوتا ہے۔ یہ اکثر میں عرض کرتا رہتا ہوں، بعض لوگوں کی نظر لگتی ہے، تو ان کو کہتے ہیں کہ ما شاء اللہ کہو، تو ما شاء اللہ اگر دل سے نہیں کہہ رہے تو اس کا اثر نہیں ہوتا، وہ گولی چل جاتی ہے۔ ما شاء اللہ کا مطلب کیا ہے وہ عرض کرتا ہوں۔ ما شاء اللہ کا مطلب کہ کیا اللہ پاک نے اپنی شان دکھائی ہے اس چیز کو بنانے میں۔ تو ذہن کس طرف چلا گیا؟ اللہ کی طرف چلا گیا۔ جب اللہ کی طرف گیا تو اس چیز ہٹ گیا، تو نظر نہیں لگی۔ کیونکہ ایک وقت میں دو چیزوں کی طرف دل نہیں جا سکتا، اگر اللہ کی طرف ذہن چلا گیا تو پھر اس کا مطلب ہے کہ وہ اس چیز سے ہٹ گیا، لہٰذا وہ نظر نہیں ہے۔ اب اگر دل مسلسل اس پر ٹکا ہوا ہے اور زبان سے کہہ رہا ہے: ما شاء اللہ، ما شاء اللہ، ما شاء اللہ، تو وہ چیز اس طرح پھر نہیں ہوتی، نظر لگ جاتی ہے۔ اور یہ نظر لگنے میں اگر نیت ہو تو انتہائی درجہ کا ظلم ہے، اس سے لوگ مر بھی جاتے ہیں۔ حدیث شریف میں آتا ہے ناں کہ نظر اونٹ کو ہنڈیا میں پہنچا دیتی ہے اور آدمی کو قبر میں پہنچا دیتی ہے۔ یعنی اس طرح بھی نظر لگ سکتی ہے، یہ ایسی عجیب چیز ہے۔ اس میں حکمت ہے اللہ تعالیٰ کی، یہ نہیں کہ ویسے ہے، اس میں بڑی حکمت ہے۔
میں اکثر عرض کرتا رہتا ہوں کہ اگر یہ نظر لگنا نہ ہوتا تو یہ مالدار لوگ غریبوں کی زندگی اجیرن کردیتے، ان کے سامنے سب کچھ رکھتے اور کھاتے اور گلچھرے اڑاتے، تو وہ بیچارے تو ظاہر ہے پریشان ہوتے، کیونکہ ان کے پاس نہ ہوتی۔ اب کم از کم نظر لگنے کے ڈر سے چھپ چھپا کے کرتے ہیں تو کچھ لوگوں کا مسئلہ حل ہوجاتا ہے، پریشانی نہیں ہوتی۔ ورنہ یہ بات ہے کہ لوگ بڑے ظالم ہیں، کوئی پروا نہیں کرتے۔ اس طرح ڈر کی وجہ سے وہ اپنی چیزوں کو کھل کے نہیں دکھاتے۔ اور ہونی بھی چاہیے کہ خواہ مخواہ تم دوسروں کے سامنے کیوں اپنی چیزوں کو لاتے ہو؟ یہ آج کل سوشل میڈیا بھی ایک مصیبت ہے۔ اپنے بچوں کی تصویریں لوگ لگا دیتے ہیں، بعض لوگ بیمار ہوجاتے ہیں، کہتے ہیں کیا ہوگیا؟ بھائی تم لوگوں نے خود ہی اپنے سامنے کیا ہے، اب بھگتو۔ کس نے کہا تھا اس کو سوشل میڈیا پہ دے دو۔ وہ بڑے شوق سے اس کی تصویریں لے کے اس کو اس پہ لگا لیتے ہیں کہ دیکھو ناں ایسے ہیں بچے۔ تو بس ٹھیک ہے، پھر نظر لگ جاتی ہے۔ ہمارا ایک نواسہ ہے اس کی اس طرح بھیجی تو رشتہ دار کو پتا چل گیا، تو وہ بہت اچھی باتیں کررہا تھا، اس کی باتیں بند ہوگئیں، کافی دنوں تک وہ باتیں نہیں کرسکا۔ ٹھیک ہے، صحیح ہے، یہ چیزیں تو ہوتی ہیں۔
متن:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم نے فرمایا: "اِنَّ اللہَ لَا یَنْظُرُ اِلٰی صُوَرِکُمْ وَاَمْوَالِکُمْ وَلٰکِن یَّنْظُرُ اِلٰی قُلُوْبِکُمْ وَاَعْمَالِکُمْ" (مشکوٰۃ) یعنی "اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور عملوں کو دیکھتا ہے"۔ ایک عربی مقولہ ہے: "اَللِّسَانُ یُسَبِّحُ وَالْقَلْبُ یُذَبِّحُ" (اَسْتَغْفِرُ اللهَ! یہ وہی چیز ہوگئی۔) یعنی زبان اللہ اللہ کرتی ہے اور دل لوگوں کی خونخواری پر تلا ہُوا ہے۔
تشریح:
یعنی اندر بغض و فساد اور کینہ بھرا ہوا ہے اور زبان سے کہہ دیتے ہیں میرے پیارے، میرے یہ، میرے یہ۔ تو وہ بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔ زبان پہ لوگ ایسے میٹھے اور اندر بھیڑیے بنے ہوتے ہیں، تو خطرناک صورتحال ہوتی ہے۔
متن:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم نے فرمایا۔ "يَخْرُجُ فِي اٰخِرِ الزَّمَانِ رِجَالٌ يَخْتِلُوْنَ الدُّنْيَا بِالدِّيْنِ يَلْبَسُوْنَ لِلنَّاسِ جُلُوْدَ الضَّأْنِ مِنَ اللِّينِ، أَلْسِنَتُهُمْ أَحْلٰى مِنَ السُّكَّرِ، وَقُلُوْبُهُمْ قُلُوْبُ الذِّئَابِ الخ" (مشکوٰۃ) یعنی "آخری زمانے میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو دین کے ذریعے سے دنیا کماتے پھریں گے۔ لوگوں کو اپنی نرمی دکھانے کے لیے دُنبے کی کھالیں پہنیں گے۔ ان کی زبانیں قند سے زیادہ شیریں ہوں گی اور ان کے دل بھیڑیوں کے دلوں کے سے ہوں گے"۔ (مطلب بھیڑیوں کی طرح خونخوار ہوں گے۔)
18
اور کچھ ظاہر میں نہ استثناء کرےپر حقیقت پر نظر ان کی رہے
مذکورہ جماعت کے بر خلاف اہل اللہ اگرچہ زبان سے ذکر و تسبیح کے کلمات نہ کہیں مگر ان کے قلوب ہر وقت ذکر و تسبیح کے ورد میں مصروف ہوتے ہیں۔
تشریح:
تین قسم کے لوگوں کا بتایا ہے، ایک تو وہ لوگ جو زبان سے تو ذکر کرتے ہیں دل سے نہیں، ایک وہ جو زبان اور دل دونوں سے کرتے ہیں، ایک وہ جو زبان سے نہیں کرتے لیکن دل سے کرتے ہیں۔ اصل چیز تو دل والی بات ہے کہ دل سے جو کام ہورہا ہوتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی نظروں میں ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اسی پہ فیصلہ فرماتے ہیں۔
متن:
19
جو علاج بھی ان طبیبوں نے کیامرض اس کا اور افزوں کردیا
20
لونڈی لاغر اس سے تھی مانندِ موشاہ کے آنکھوں میں پر آنسو تھے خوں
21
جب قضا آئے طبیب پاگل بنےپھر صحیح نسخہ کے کب قابل بنے
تشریح:
واقعتاً یہ جو دوائی ہے، یہ دوائی بھی تو اللہ کی مخلوق ہے اور اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق کام کرتی ہے۔ انسان اسباب کے دائرے میں تو اس کو استعمال کرتا ہے لیکن مسبب الاسباب کے حکم کے بغیر یہ کام نہیں کر سکتی۔ ہمارے ڈاکٹر فدا صاحب کہتے تھے، دوائیوں کے اوپر سب سے زیادہ بے اعتماد ڈاکٹر ہوتے ہیں۔ ان کو پتا ہوتا ہے کہ کہاں کہاں سے یہ فیل ہوتی ہے، کس کس جگہ یہ کام نہیں کر سکتی۔ اور واقعتاً اگر دیکھا جائے میں آپ کو ایک صاف بات بتاؤں، دوائی ایک chemical compound ہے، اور ہمارے معدے کے اندر بہت سارے chemicals ہیں اور chemical chemical کے ساتھ مل کر chemical بناتے ہیں۔ تو آپ جو دوائی لے رہے ہیں آپ کو کیا پتا کہ آپ کے معدے میں کون سے chemical ہیں اس وقت، وہ کیا کررہے ہیں، اور دوائی کے ساتھ reaction کرکے پھر کیا بنیں گے۔ آپ کو کچھ پتا نہیں ہے۔ پتا چلے گا اس وقت جب وہ کام ہوچکا ہوگا، پھر کیا کر سکتے ہیں آپ۔ تو بس وہی والی بات کہ اللہ تعالیٰ ہی پہ توکل کرکے دے رہے ہوتے ہیں ورنہ صحیح بات ہے کہ کوئی confirmation نہیں ہے کہ دوائی کیا کرے گی۔ ظاہر ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا اندر ایک نظام ہے، اور یہ باہر کا نظام اس سے مل کر ایک نیا نظام بناتا ہے، تو اس نئے نظام کے بارے میں کوئی پتا نہیں کہ وہ کس حالت میں ہوگا، ہماری favour میں ہوگا یا ہمارے against گا۔ اس کے بارے میں کچھ پتا نہیں۔ تو اللہ جل شانہٗ پہ ہی بھروسہ کرکے ہمیں علاج سنت کے مطابق کرنا چاہئے تاکہ ہم لوگ صحت حاصل کر سکیں۔ ایسا ہوتا ہے کہ یہ ڈاکٹر حضرات بھی جس وقت مریض ان کے بس سے نکل جاتا ہے تو کہتے ہیں: اب دعا کریں۔ ہم کہتے ہیں: پہلے بھی دعا کا کہو، یعنی پہلے بھی تمھارے control میں کیا تھا۔ دعا تو ہر وقت کی ضرورت ہے، یہ تو نہیں کہ جس وقت آپ کے ہاتھ سے نکل جائے تو اپنے آپ کو بچانے کے لئے اب دعا کرو، یعنی میرے بس میں تو نہیں ہے تو اب ٹھیک ہے دعا کرو۔ بس گولی چلا رہا ہوں اور دیکھیں کیا ہوتا ہے۔ تو اصل بات یہ ہے کہ دعا تو پہلے بھی کرنی چاہئے جس وقت آپ کے پاس سب کچھ ہے۔
ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے، ایسا توکل تو بچہ بھی کرسکتا ہے کہ پاس کچھ نہیں اور کہہ دے اللہ سب کچھ کرتا ہے۔ فرمایا: اصل توکل یہ ہے کہ بینک بھرے ہوں اور پھر بھی کہے اللہ سب کچھ کرتا ہے۔ یہ توکل ہے، کیونکہ اس کو اپنے مال کے اوپر کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ واقعتاً صحیح بات میں عرض کرتا ہوں، ہمارے پاس کتنا ہی مال کیوں نہ آئے، خدانخواستہ اگر کوئی ایسی بیماری اللہ بھیج دے جس کا علاج اس مال سے زیادہ ہو تو آپ کے پاس پھر کیا رہ جائے گا۔ یہ جو liver transplant ہے ایک کروڑ روپے کا ہے، یہ کسی کو پڑ جائے تو کیا کرے گا۔ وہ تو ٹکڑے ہوتا رہے گا، یہ کروں نہ کروں، کس طرح کروں، کیا ہوگا، پیسے کہاں سے ملیں گے۔ اور کرنا تو پڑتا ہے، تو یہ ساری چیزیں ہیں۔ تو کتنی پریشان ہوجاتی ہے۔ اب جو غریب لوگ ہیں وہ صحیح سالم ہیں، اس کا liver بھی صحیح ہے، اس کی kidney بھی صحیح ہے، اس کا heart بھی صحیح ہے، اس کی ساری چیزیں صحیح ہیں۔ ایک مالدار ہے، اس کی ان میں سے ایک چیز خراب ہوجائے تو کون سا فائدے میں ہے؟ پھر ظاہر ہے کہ وہ پیچھے پیچھے ڈاکٹروں کے الگ پھرے گا، پیسے الگ خرچ کرے گا اور تکلیفیں الگ سے ہیں۔ تو یہ ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہئے کہ اللہ پاک نے اگر ہمیں عافیت میں رکھا ہوا ہے، تو اس پہ اللہ تعالیٰ کا بہت شکر ادا کرنا چاہئے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوتا ہے، ورنہ صحیح بات ہے کہ میں تو اکثر عرض کرتا ہوں جب میں سوتا ہوں ناں چارپائی پہ، تو اللہ کا شکر دل سے نکلتا ہے کہ اے اللہ تیرا شکر ہے کہ اس وقت ہم کسی تکلیف میں مبتلا نہیں ہیں، کتنے لوگ ہیں جو سو نہیں سکتے، کتنے لوگ ہیں کہ تکلیف کی وجہ سے آرام نہیں ان کو آتا۔ یہ بہت سارے مسائل لوگوں کے ساتھ ہوتے ہیں۔ تو اس وجہ سے اللہ پاک کا شکر ادا کرنا چاہئے۔ اور یہ شکر بہت ہی زیادہ محبوب ہے، کیونکہ عین اس وقت نعمت کے دوران جب ایک نعمت آپ کے پاس ہے، اس وقت غفلت کی صورتحال ہوتی ہے، تو غفلت سے جب انسان نکلا ہو اور اللہ تعالیٰ کا شکر کررہا ہو تو اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہوتا ہے۔
متن:
22
از قضا صفرا بڑھائے سکنجبینروغن بادام تر رہے نہیں
تشریح:
یہ بات پھر آگئی، مطلب دوا مخالف پڑ جاتی ہے، جو سکنجبین ہے وہ صفرا بڑھاتی ہے اور بادام تر نہیں رہتا مطلب اس کی صفتیں وہ نہیں رہتیں جو صفات اللہ نے اس کی پیدا کی ہیں، جس کی وجہ سے وہ معروف ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ تبدیل ہوجاتی ہیں، آدمی کچھ نہیں کرتا۔ تبدیل کیسے ہوجاتی ہیں، اسباب کے دائرے میں اس کے اندر کوئی reaction ایسا ہوجاتا ہے کہ وہ کوئی اور چیز بن جاتی ہے۔ جیسے کالج میں کیمسٹری میں experiment کرتے تھے، تو copper sulphate مطلب copper کے ٹکڑے ہم sulphuric acid میں ڈالتے ہیں، بڑا مزیدار experiment ہوتا تھا۔ sulphuric acid زرد مائل سرخ رنگ کا ہوتا ہے اور copper بھی، آپ کو پتا ہے کہ تانبا کس رنگ کا ہوتا ہے، یہ بھی زرد رنگ کا ہوتا ہے، اب دونوں کو ملا دو تو سبز رنگ پیدا ہوجاتا ہے، نیلا تھوتھا جس کو کہتے ہیں، copper sulphate۔ بڑی دلچسپی کے ساتھ یہ experiment کرتے ہیں۔ ٹکڑے اس میں رکھ کے فوراً وہ رنگ اس میں بدل جاتا۔ اب بالکل دوسری چیز بن گئی، وہ الگ ہی ہے۔ copper sulphate نہ وہ sulphuric acid ہے یعنی نہ اس میں sulphuric acid کی صفات ہیں، نہ اس میں copper کی صفات ہیں، وہ ایک تیسری چیز بن گئی۔ تو اس کے ساتھ آپ کیا کر سکتے ہیں۔ اس طرح جو چیزیں آپس میں ملتی ہیں، ان سے علیحدہ ایک نئی چیز بن جاتی ہے، ممکن ہے اوزار بن جائے پھر کیا کرو گے۔ تو آپ نے دوائی منہ میں ڈالی وہ اِدھر جاکے زہر بن گئی، تو یہی حضرت کہہ رہے ہیں۔
متن:
22
از قضا صفرا بڑھائے سکنجبینروغن بادم تر رہے نہیں
23
اور ہلیلہ جو تھا قابض بن گیاپانی بھی آتش کی شدت من گیا
بیماری کے آگے دوا کی کچھ پیش نہ گئی۔ ہر کوشش کا الٹا اثر ہوا۔
تشریح:
جو ہلیل تھا وہ قبض کرنے والا بن گیا اور جو پانی تھا وہ گرم اثر دکھانے لگا۔
متن:
24
سستیٔ دل بڑھ گئی اور خواب کمسوزش چشمان و دل پردرد و غم
تشریح:
مطلب یہ ہے کہ خواب بھی اب کم ہوگیا، دل بھی ڈوبنے لگا، آنکھوں میں بھی سوزش ہونے لگی اور دل میں درد شروع ہوگیا، غم زیادہ بڑھ گیا۔ وجہ کیا ہے کہ اللہ پاک کا نظام اس طرح اس کے سامنے آگیا۔
متن:
25
شربت و ادویہ اسباب میںآبرو جو سب طبیب تھے کھوگئے
تشریح:
وہ ساری ان کی ادویہ اور شربتیں اور تمام چیزیں اسباب، سب کے سب اڑ گئے اور طبیب بے آبرو ہوگئے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ ہم لوگ اسباب پہ رک جاتے ہیں، اسباب اختیار کرنے کا حکم ہے۔ کہتے ہیں ناں کہ گھروں میں دروازوں سے داخل ہوجاؤ: ﴿وَاْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ اَبْوَابِهَا﴾ (البقرۃ: 189) دروازوں سے داخل ہو، مطلب اسباب کو اختیار کرو لیکن اسباب پہ بھروسہ نہ کرو، بھروسہ مسبب الاسباب پہ کرو۔
حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹوں سے فرما رہے ہیں بیٹو! متفرق دروازوں سے داخل ہوجاؤ، وہاں پر بھی نظر والی بات تھی۔ فرمایا: اللہ پاک جو کرتا ہے اس پہ کوئی ہم کفایت نہیں کر سکتے، ہوگا تو وہی جو اللہ چاہے گا۔ یعنی دونوں کو جمع کردیا، سبب کو مسبب الاسباب کے اوپر بھروسہ کے ساتھ جمع کردیا۔ جو اللہ کو منظور ہوگا، ہوگا تو وہی، لیکن ہم نے ایک سبب اختیار کرلیا اپنے طور پر۔ بعض لوگ اسباب ہی اختیار نہیں کرتے، وہ اپنے ذہن میں توکل کو غلط سمجھے ہوتے ہیں، ان کا توکل تعطل ہوتا ہے، وہ کوشش ہی نہیں کرتے، کہتے ہیں بس اللہ مالک ہے۔ بھائی اللہ تو پہلے ہی مالک ہے، تمھارے کہنے سے تھوڑی ہی مالک ہوگا۔ تم کوشش کرو، اللہ پاک نے راستہ دیا ہے اس راستہ کو اختیار تو کرو۔ لیکن اس پر وہ عمل نہیں کرتے۔ تو یہ تعطل ہے توکل نہیں ہے۔ انسان کو اسباب اختیار کرنے چاہئیں کیونکہ سنت یہی ہے۔ آپ ﷺ نے بدر کے وقت ساری چیزیں طے کردیں، جنگی نقشہ سارا کچھ بنا دیا۔ جو کچھ ہو سکتا تھا اقدامات اسباب کے دائرے میں کرنے تھے وہ کردیئے، پھر دعا فرمائی اور دعا بھی ایسی والہانہ کی کہ جیسے اسباب ہیں ہی نہیں۔ اس لئے مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ نے بھی ایک جگہ پر ایک شعر میں کہا ہے کہ جو انبیاء دعا کرتے ہیں تو ایسے کرتے ہیں جیسے ان کے پاس اسباب بالکل نہیں ہیں، گویا کہ یہ مجبور ہیں۔ اور جس وقت اسباب کا وقت آجاتا ہے تو ایسے ہوتے ہیں جیسے دہریے ہیں، مطلب اسباب کو ایسے اختیار کرتے ہیں۔ تو دعا کے وقت میں مسبب الاسباب پہ نظر، اسباب اختیار کرتے وقت اسباب پہ نظر، وہ پورا عمل کرتے ہیں۔
ما شاء اللہ ہم نے علماء کرام کو دیکھا ہے، جو صحیح علماء کرام تھے وہ ما شاء اللہ ایسے طریقے سے رہتے تھے۔ حضرت مولانا تسنیم الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے کمرے میں جو جاتا تو اتنا خوش ہوجاتا، ہر چیز ایسے سلیقے سے پڑی ہوتی تھی کہ پتا چلتا ہے کہ ایک عالم کے کمرے میں آئے ہیں۔ اور ایک ہاتھ بالکل کام نہیں کررہا تھا، مفلوج تھے، اپنا نظام سارا لکھنے کا تھا کیونکہ اکثر یہ ترجمے بہت کیا کرتے۔ پشتو میں ترجمے کیے ہیں، بہشتی زیور کا کیا تھا، اس طرح چالیس مواعظ کے کیے تھے اور ما شاء اللہ کتابوں کے کیے، نشر الطیب فی ذکر الحبیب کا کیا تھا۔ تو ترجمے کیے تھے اور حضرت کام کرتے تھے تو بس وہ paper weight پڑا ہوتا تھا۔ وہ ایک ہاتھ سے لکھتے تھے اور دوسرے ہاتھ کی جگہ paper weight سامنے رکھتے تاکہ وہ کاغذ ہلے نہیں۔ پھر اس کے بعد کاغذ الٹا کر وہ ورق الٹا لیتے، پھر paper weight اس پہ رکھتے پھر لکھتے، اس طرح ما شاء اللہ ہر چیز رکھی تھی۔ اس کے ساتھ وضو کا ایک ہاتھ سے کرنے کا پورا انتظام set کیا ہوتا تھا۔ تو مطلب یہ ہے کہ جو اسباب تھے وہ پورے پورے اختیار کرتے تھے لیکن سبحان اللہ اس حد تک توکل تھا کہ میں آپ کو کیا بتاؤں۔ جب accident ہوگیا، کولہے کی ہڈی ٹوٹ گئی، مجھے پتا چلا تو میں بڑا گھبرا گیا کہ یہ تو بڑی مشکل سے ٹھیک ہوتا ہے اور اس عمر میں، میں دوڑا دوڑا حضرت کے پاس پہنچ گیا اور اندر جاکے میں نے کہا السلام علیکم حضرت کیا حال ہے؟ تو حضرت نے کہا ما شاء اللہ عیش کا کھانا مل رہا ہے، لوگ مارے مارے پھر رہے ہوتے ہیں مجھے اللہ تعالیٰ چارپائی پہ کھلاتے ہیں۔ سبحان اللہ! اس میں بھی اللہ تعالیٰ کا شکر۔ اور کمال کی بات ہے یہ فرمایا کہ بیماری سے تیماردار پہلے بھیج دیئے تھے، وہ لوگ بہت پہلے پہنچ گئے تھے، دیکھو خدا کی شان، یہ بھی شکر ہوگیا۔ کمال ہے، یہ اللہ والے ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ اور اسباب پورے اختیار کرتے تھے۔ آدمی حیران ہوجاتا تھا کہ کس کس چیز تک ان کا ذہن جاتا تھا۔ مجھے حج کے واقعات سنائے تھے، میں بڑا حیران ہوگیا تھا جیسے حضرت نے حج کیا تھا ما شاء اللہ۔ حج کے لئے کیا کیا تھا؟ ما شاء اللہ کتاب اسلامیات کی لکھی تھی، میٹرک کی کتاب حضرت کی تھی ہماری۔ تو کہتے ہیں پتا نہیں کوئی قبولیت کا وقت ہوا اور میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے اللہ اس کتاب کو منظور کروا دے اور اس سے جو پیسے مجھے ملیں اس پر میں حج پہ چلا جاؤں گا۔ کہتے ہیں وہ دعا قبول ہوگئی تو بس وہ پیسے مل گئے، جب پیسے مل گئے تو اس سے second class ship میں حج کر سکتا تھا۔ لوگوں نے کہا کہ third class لے لو کچھ پیسے بچ جائیں گے۔ میں نے کہا نہیں، اللہ نے second کا ٹکٹ بھیجا ہے میں third class میں نہیں جاؤں گا۔ یہ زبردست چیز ہے۔ میں جب حج پہ جارہا تھا تو مجھے یہ نصیحت کی کہ دیکھو بیٹا پیسے نہیں بچانا، وقت بچانا ہے، وقت وہاں بہت زیادہ اہم ہے۔ آپ پیسے بچائیں گے، پیدل جائیں گے حرم شریف کا وقت کم ہوجائے گا۔ آپ گاڑی سے چلے جائیں اور حرم میں زیادہ وقت گزاریں۔ یہ practical چیز ہے۔ تو میں اس لئے عرض کرتا ہوں کہ یہ بات ہوتی ہے کہ توکل بھی ہے اور ما شاء اللہ اسباب پر نظر بھی ہے۔ جس طرح ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ، سبحان اللہ! ہر چیز کا ایسا ٹھیک ٹھیک اندازہ کہ اب دیکھو Head of Department بھی تھے عربی کے اس فالج کی حالت میں۔ پھر ظاہر ہے شیخ تھے بہت سارے لوگوں کے، اور لکھنے کا کام بھی حضرت کا ہوتا تھا۔ اور حضرت کے پاس تو بہت سارے لوگ اپنے مسائل حل کرنے کے لئے آتے تھے، ان کی بھی بات ہوتی تھی، کئی چیزوں کے سرپرست تھے۔ یہ جو ہمارے پشاور میں درویش مسجد صدر میں جو ہے، حضرت نے اس کو بنوایا تھا، امداد العلوم وہاں پر مدرسہ ہے۔ یہ فری میسن لاج تھا، جب فری میسن پہ پابندی لگ گئی تو ایسا ہوا کہ ضیاء الحق اس وقت بریگیڈیر تھے پشاور کے، یہ سبحان اللہ نیک لوگوں کے بڑے معتقد تھے، ان کے ساتھ رابطہ رکھتے تھے، تو حضرت مولانا صاحب کے ساتھ بھی ان کا رابطہ تھا، تو مولانا صاحب کو اطلاع کردی کہ مولانا صاحب اس کی چابی میں آپ کو دلوانا چاہتا ہوں، آپ اس کو کسی دینی کام میں استعمال کریں۔ آکر اس کا تالا توڑا، کیونکہ بریگیڈیر تھے، اپنا تالا لگایا اور چابی مولانا صاحب کو دے دی۔ اور یہ اس وقت کے administration جیسے اسسٹنٹ کمشنر جو ہوتا ہے اس کی مرضی کے خلاف تھا۔ اب ضیاء الحق کو تو وہ کچھ نہیں کہہ سکتے تھے، کمشنر نے مولانا صاحب کو کہا کہ مولانا یہاں سے نکل جاؤ، مولانا نے سنی ان سنی کردی۔ انہوں نے گورنر کو بتا دیا، گورنر نے کہا مولانا اپنا سامان یہاں سے نکال لو، اس پہ ہم نے کچھ کام کرنا ہے۔ کام کیا کرنا تھا، اس پہ کلب بنانا تھا، اس کا فیصلہ ہوچکا تھا۔ مولانا نے سنی ان سنی کردی، پروا ہی نہیں کی۔ جاتا جاتا معاملہ بھٹو تک چلا گیا، اس وقت بھٹو صاحب وزیر اعظم تھے۔ بھٹو صاحب بھی جذباتی آدمی تھے، پیغام بھیجا کہ مولانا نکل جائیں وہاں سے ورنہ تمھارا بستر گول کردوں گا۔ مولانا صاحب کا ایک نعرہ نکلتا تھا، ”اِلَّا اللّٰہُ“ کا نعرہ نکلتا تھا، چونکہ چشتی بزرگ تھے۔ تو نعرہ نکال کے کہا: میں دیکھتا ہوں بستر کس کا گول ہوتا ہے۔ بس پھر چند دنوں میں بستر گول ہوگیا۔ اب پھر اس کے بعد اس کو بنانا ایک مسئلہ ہے، بھئی! اتنی بڑی جگہ تھی، بنانا کوئی آسان بات ہے۔ تو وہ چونکہ پہ اس کی پابندی لگوانا چاہتے تھے، تو مولانا صاحب نے کیا کیا کہ سعودی عرب کا جو سفیر تھا وہ مولانا صاحب کا دوست تھا، اس کو ٹیلی فون کیا کہ آپ آجائیں، یہ مسجد فیصل ہے اور آپ اس کا افتتاح کریں گے۔ تو وہ آگیا، اس نے افتتاح کیا اور سب اپنی جگہ خاموش۔ اب کیا کر سکتے تھے۔ سعودی عرب کے سفیر کے ساتھ تو نہیں ٹکرا سکتے تھے۔ بس وہ معاملہ فیل ہوگیا۔ پھر اس کے بعد درویش نامی ایک شیخ نے، جو غالباً امارات کے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں سارا فنڈ کرتا ہوں آپ اس پر مدرسہ بنا دیں۔ تو مسجد بھی شاندار مسجد بنی ہے، مدرسہ بھی بہت شاندار بنا ہوا ہے اور وہ ما شاء اللہ ابھی چل رہا ہے، اس کے سرپرست تھے مولانا صاحب۔ تو یہ میں اس لئے عرض کرتا ہوں کہ ایسے لوگوں سے اللہ پاک بڑے کام لیتے ہیں۔ اسباب کو بھی استعمال کریں لیکن بھروسہ اللہ تعالیٰ پر ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نصیب فرمائے۔
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ